. - General
Topic: .
حضرت امام ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجبر کو علاوہ عالم و عالم دین ہونے کے ان باتوں کا بھی پابند ہونا ضرور ہے کہ لوگوں کے طور اطوار و خصائل و عادات اور احوال کو خوب پہچانے اور اللہ تعالے سے ہمیشہ یہی توفیق مانگتا رہے کہ خدا تعالی اس کی زبان پر اچھی اور ثواب کی بات ہی جاری کرے اور گناہوں سے بچتا رہے اور لقمہ حرام کھانے اور بیہودہ باتیں کہنے اور سننے سے دور رہے تاکہ وہ العُلَمَاءُ وَرَثَتُهُ الأَنبهَا کا مصداق بن جائے۔ کا ملحوظ رکھنا نہایت مور کہ وہ حضرت امام ابراهیم کرمانی رحمتہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجبر کو ان آداب کا ملا خواب کو نہایت ہوشیاری اور خاص توجہ سے سنے اور خواب پوچھنے والے کے دین مذہب اور خیالات سے واقفیت حاصل کر لئے، تاکہ اس کو یہ معلوم ہو جاوے کہ سائل سچ کہہ رہا ہے یا جھوٹ۔ کیونکہ جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اصلاكُمْ رُوهَا أَصْلُكُمْ حَلِينا - یعنی جو نسا تم میں ۔ تم میں سے زیادہ سچا ہوتا ہے، وہی شخص خواب بیان کرنے میں بھی تم سب سے زیادہ راست گو اور سچا ہوتا ہے۔