. - General
Topic: .
اور اگر بذات خود با برکت حضرت خواجہ دو جہاں صلی اللہ ، خود موجود نہیں تھا تو تمام راویوں کے اسماء گرامی به ترتیب بیان کئے جائیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی بتا دیا جائے کہ یہ اللہ علیہ وسلم کو کچھ فرماتے یا کرتے نہیں دیکھا۔ یا کسی واقعہ میں فہمی اور عقل و خرد کی کیا کیفیت تھی؟ ثقہ اور راست گو تھے۔ یا غیر ثقہ دقیقہ بین تھے یا بادی الرائے وسطی الذہن عالم روات کیسے لوگ تھے؟ ان کے دینی و دنیاوی مشغلے کیا کیا تھے ؟ تقوی و طہارت میں انکا کیا رتبہ تھا؟ ذہن ' حافظہ ، تھے یا جال؟ گوان جزئی حالات کا پتہ لگانا سخت مشکل بلکہ ناممکن کے قریب تھا۔ لیکن ہزارہا محدث کرام نے اپنی ساری عمریں اسی ایک کام میں صرف کر کے اس نا ممکن کام کو ممکن اور پیش پا افتادہ بنا دیا۔ یہ نفوس قدسیہ ایک ایک شہر اور قریہ میں گئے۔ راویوں سے ملاقاتیں کیں۔ ان کے متعلق ابنائے زبان سے ہر قسم کے معلومات بہم پہنچانے میں کسی شخص کے مرتبہ اور حیثیت کی کوئی پرواہ نہ کی۔ والیان ملک سے لے کر مقدس مقتداؤں تک کی اخلاقی سراغرسانیاں کیں اور تنقیححدیث کی خاطر ایک ایک شخص کی پردہ دری ضروری خیال کی۔ امام محمد بن سیرین محمد ثین کرام کی اولو العزم جماعت میں صدر کی حیثیت رکھتے تھے۔ آپ نے خود روایت کی اور تحقیق و تنقیح میں خاص حصہ لیا۔ آپ نے خود روایت کرنے کے علاوہ جو روایت حدیث میں عام طور پر دیکھے جاتے تھے۔ ثقاہت کا ایک اور معیار بھی قائم کیا اور وہ یہ تھا کہ صرف فرقہ حقہ اہل سنت و الجماعت ہی سے روایت لی جائے۔ روافض خوارج، معتزلہ اور دوسرے مبتدع فرقوں کے مرویات سے کوئی سروکار نہ رکھا جائے۔ امام شمس الدین ذہبی میزان الاعتدال في نقد الرجال کے مقدمہ میں ان ثقات کا ذکر کرتے ہوئے جن کی حدیثیں قابل استناد نہیں سمجھی گئیں۔ لکھتے ہیں کہ بروایت عاصم احوال امام محمد بن سیرین نے فرمایا ہے کہ اوائل میں حدیث کی روایت میں استاد کا کوئی لحاظ نہیں رکھا جاتا تھا۔ انجام کار جب فتنے اٹھے اور صالحین امت کی طرح ا طرح اہل بدعت و ہوا نے بھی روایت حدیث شروع کر دی تو ہم نے حق و باطل میں امتیاز کرنے کے لئے یہ معیار مقرر کیا کہ صرف اہل سنت و جماعت کی حدیث لی جائے اور اہل بدعت کے بیان کو قابل توجہ نہ سمجھا جائے۔ واقعی تنقیح روایت کا یہ ایک بڑا ضروری اصول تھا جو اختیار کیا گیا۔ اگر اس وقت یہ التزام نہ کیا جاتا تو آج اصل و نقل صحیح و موضوع میں تمیز کرنا نا ممکن ہو جاتا۔