D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

. - General

Topic: .

شعی، ثالث خالد خدا داؤد بن ابی ہند ہند ابن عون یونس بن عبید جریر بن حازم ایوب، اشعب بن عبد المالک حبيب بن شهید عاصم احول، عوف اعرابی، قتادہ، سلیمان تیمی، قره بن خالد مالک بن دینار، مهدی بن میمون، اوزاعی، علی بن زید بن جدعان و غیر هم رحمتہ اللہ علیم عبداللہ بن احمد نے اپنے والد محترم امام احمد بن خیل سے روایت کی ہے کہ محمد بن سیرین نے جو عمران ابو ہریرہ اور عبد اللہ بن عمر سے تو روایت کی لیکن عبد اللہ بن عباس سے کوئی حدیث روایت نہیں کی۔ خالد حدا کا بیان ہے کہ وہ ہر روایت جس کی نسبت ابن سیرین نے کہا کہ مجھے ابن عباس سے پہنچی وہ انہوں نے عکرمہ سے سنی تھی، جن سے آپ نے مختار ثقفی کے ایام میں ملاقات کی تھی۔ امام بخاری کا بیان ہے کہ امام محمد بن سیرین نے حضرت عبداللہ بن زبیر کے عہد حکومت میں حج کیا اور وہیں ابن زبیر اور زید بن ثابت سے حدیث کی روایت کی۔ امام ابن سیرین کی مسلم الثبوت ثقاہت شیخ ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں کہ امام ربانی محمد بن سیرین کامل العلم، ثقہ پہاڑ کی چٹان سے زیادہ مضبوط علامہ تعبیر مملکت ورع و تقوی کے سرتاج اور امام حسن بصری سے بھی زیادہ ثابت قدم اور مستقل مزاج تھے۔ مورق مجلی کا بیان ہے کہ میں نے کسی شخص کو محمد بن سیرین سے بڑھ کر ورع میں افقہ اور فقہ میں محتاط نہیں دیکھا۔ ابو قلانہ کہا کرتے تھے کہ بھلا کسی شخص کو اس کام کی صلاحیت ہے جو ابن سیرین" میں مودع ہے۔ وہ تو تلوار کی دھار پر قدم رکھ دینے والے بزرگ ہیں۔ شعبی کہا کرتے تھے کہ تم لوگ محمد بن سیرین کی صحبت اختیار کرو۔ ابن عون کا بیان ہے کہ ابن سیرین حدیث کی روایت بالمعنی نہیں کرتے تھے۔ بلکہ حرف بحرف ضبط کرنے کا اہتمام کرتے تھے اور جب ہشام بن حسان" آپ سے کوئی حدیث نقل کرتے تھے تو کہا کرتے تھے کہ مجھ سے ایسے بزرگ نے اس حدیث کی روایت کی ہے جسے میں نے اپنی عمر میں سب سے زیادہ صادق البیان پایا ہے۔ مجلی کا بیان ہے کہ محمد بن سیرین تا بعی ثقہ ہیں۔ آپ نے شریح اور عبیدہ کی سب سے زیادہ روایتیں نقل کی ہیں اور ان کوفیوں میں تربیت پائی ہے جو عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد تھے۔ ابن سعد نے لکھا ہے کہ محمد بن سیرین ثقہ عالی قدر رفیع المنزلت اور جلیل القدر امام تھے۔ ابن المدینی کا قول ہے کہ ابو ہریرہ کے شاگرد چھ ہیں۔ ابن المسيب، ابوسلمه اعرب ابو صالحه ابن سیرین" اور طاؤس ، ابو قلانہ کا قول ہے کہ محمد بن سیرین کو جس حیثیت مجھے بھی جانچو انہیں ہر حالت میں سب سے زیادہ مستقیم الاحوال، متقی اور نفس پر قابو رکھنے والا پاؤ گے۔“ اور ابن عون کا بیان ہے کہ میں نے ان حضرات کی مانند دنیا میں کسی کو نہیں پایا۔ عراق میں ابن سیرین"، حجاز میں قاسم بن م قاسم بن محمد اور شام میں رجاء بن حبوں اور پھر ان تینوں میں ابن سیرین بالکل بے عدیل تھے۔ عثمان تیھی کا قول ہے کہ بصرہ میں محمد بن سیرین سے بڑھ کر اعلم بالقضاء کوئی نہیں گزرا۔ علم حدیث میں امام ابن سیرین کا بلند پایہ مقام روایت حدیث کا مقدس ترین اصول یہ ہے کہ جو واقعہ بیان کیا جائے اس شخص کی زبان سے مذکور ہو جو خود شخص سے شریک واقعہ تھا۔ یا اس نے بہ نفس نفیس حضرت فخر المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی کام کرتے یا ارشاد فرماتے دیکھا