D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

. - General

Topic: .

نے ظاہر حواس کو بڑے بڑے عوائق در پیش ہیں۔ اس لئے خدائے برتر کی رحمت نوازی نے انسان کے اندر ایسی فطرت و دیعت فرمائی ہے کہ عالم رویاء میں حسب استعداد اس کے حجاب استعداد اٹھ جاتے ہیں۔ ایسی حالت میں، اس کا نفس جس چیز کی طرف بھی متوجہ ہو اس کا علم حاصل کر لیتا ہے۔ چنانچہ اسی مناسب سے جناب مخبر صادق رضی اللہ عنہ ۔ رویاء کو مبشرات سے تعبیر فرمالیا۔ حجاب کیونکر مرتفع ہوتے ہیں بعض علماء نے فرمایا ہے کہ نفس ناطقہ کا اور اک اور اس کے کم روح حیوانی کے وساطت سے جو ایک قسم کا لطیف بخار ہے انجام پاتے ہیں اور اس بخار کا منبع و مستقر حسب توضیح جالینوس وغیرہ دل کا زیرین حصہ ہے۔ یہی روح حیوانی خون کے ساتھ تمام شریان و عروق میں پھیلتی اور بدن میں حس و حرکت اور دوسرے اعمال کو قوت بخشتی ہے۔ اسی لطیف بخار کا کچھ حصہ دماغ کی طرف صعود کر کے دماغی برودت سے اعتدال پاتا ہے۔ اس کی مدد سے دمائی قومی اپنے کام میں سرگرم رہتے ہیں۔ گویا نفس ناطقہ بھی اسی حیوانی روح کی مدد سے ادراک و تعقل کرتا ہے اور اس سے متعلق ہے، کیونکہ لطیف چیز کا تعلق لطیف ہی سے ہو سکتا ہے۔ جب حواس خمسہ لگا تار کام کرنے سے مضمحل ہو جاتے ہیں تو روح حیوانی بہ حسب فطرت اپنی کامل بیئت پر بلا مدد غیرے اوراک حاصل کرنے کے لئے مستعد ہوتی ہے۔ یہ کیفیت عموما" اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کہ روح حیوانی ظاہری حواس کو چھوڑ کر باقی حواس کی طرف رجوع کرتی ہے۔ حواس ظاہری سے روح کی مفارقت میں رات کی برودت جو جسم پر غالب ہوتی ہے مددگار بن جاتی ہے، اس لئے حرارت عزیزی بھی جسم کے اندرونی حصوں کی طرف رخ کرتی ہوئی اوپر سے اندر چلی جاتی ہے۔ غرض جب روح حیوانی ظاہری حواس کو چھوڑ کر باطنی حواس میں پہنچتی ہے اور نفس مشاغل حیہ سے بکسار ہوتا اور ان صورتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو حافظہ میں محفوظ ہیں تو علی العموم اس سے خیالی صورتیں متمثل ہوتی ہیں۔ اس کے بعد وہ صورتیں جس مشترک میں جو جامع حواس ظاہری ہے پہنچتی ہیں۔ حس مشترک ظاہری حواس کے طریقہ پر ان کا ادراک کرتا ہے اور بعض اوقات نفس قوائے بائینہ سے متصادم رہنے کے بعد دفعته اپنی روحانیت کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور روحانیت کی فطری طاقت کی مدد سے اور اک کرتا ہے اور ان اشیاء و حقائق کا ادراک کرتا ہے۔ جو حالت موجودہ میں اس کی ذات و حقیقت سے متعلق ہوں۔ اس کے بعد ان کی صورتوں پر حاوی ہوتا ہے اور اگر نفس نے حافظہ کی موجودہ صورتوں میں قبل اس کے کہ نفس حواس سے پوری طرح مخلصی پا کر علم و اقتباس بذات با حاصل کرے تحلیل و ترکیب شروع کر دی تو اس کو اضغاث احلام یا بد خوابی کہتے ہیں۔ ا