. - General
Topic: .
کو چاہئے کہ پہلے صاحب جو کچھ لوگ پوچھتے ایک جواب کہتے اور باقی کی تعبیر نہیں کہتے تھے۔ لہذا تعبیر بیان کرنے وا خواب کی بات کو اچھی طرح سے اور اس کی تعبیر میں اچھی طرح غور کرے اور اگر بات درست ہے اور اس کے معنی صحیح ہیں اور تاویل کی برداشت کرتے ہیں۔ اس وقت تعبیر بیان کرے۔ اگر اصل خواب میں فو کو جدا کرے اور اصل کی تعبیر بیان کرے۔ میں فضول بات ہو تو اس فضول اگر ساری بات مختلف ہے اور آپس میں جوڑ نہیں کھاتی ہے تو خواب پریشان ہے اس کی تعبیر نہ کیے اور اگر تعبیر چھپائے تو سائل سے پوچھے کہ تنگ دل ہے یا خوش دل ہے اور جو کچھ اس سے سنے اس پر تاویل خواب کی بنا رکھے اور اگر وہ نہ کہہ سکے اور تعبیر بیان کرنے والا نام سے جان نہ سکے۔ تو طبیعت عبارت اور گفتار اور روشنی اور نیکوئی اور دروغ اور راست سے تاویل کرے اور اگر اس کے خواب کی تاویل کسی بد چیز پر ہو تو نہ کہے اور اس پر پوشیدہ رکھے۔ کرمانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اصل خواب تین چیز پر ہے۔ ایک جنس۔ دوسری صفت۔ تیسری طبع جنس جیسے درختوں اور پرندوں کی ہوتی ہے۔ یہ سب مردوں کی تاویل ہوتی ہے اور صفت یہ ہے کہ تعبیر بیان کرنے والا جانے کہ درخت کون سا ہے اور مرغ کس جنس سے ہے اور کس صفت کا ہے اور اگر اخروٹ کا درخت ہے تو معلوم کرے کہ عجمی مرد ہے۔ کیونکہ عرب میں اخروٹ کا درخت نہیں ہوتا ہے اور اگر پرندہ مور ہے تو عجمی ہے، اگر شتر مرغ ہے تو مرد عربی ہے اور طبیعت یہ ہے کہ معلوم کرے کہ اس درخت کی طبیعت کسی قسم کی ہے۔ لہذا اس درخت کی نوع پر تاویل بیان کرے۔ اگر اخروٹ کا درخت ہے تو مرد مالدار ہے۔ لیکن بد معاملہ بخیل اور برا ہے۔ کیونکہ اگر تم اخروٹ کو ہلاؤ تو آواز کرتا ہے اور جب تک نہ توڑو گری نہیں نکلتی ہے اور اگر کھجور کا درخت ہے تو جو کام اختیار کرے گا آسان ہو گا۔ كَفَجَرَةِ طَيِّبَتِهِ أَصْلَهَا ثَابِتُ وَ فَرْعُهَا فِي السَّمَاءِ ( جیسے پاک درخت اس کی جڑ ثابت ہے اور شاخ آسمان میں ہے) وہاں پر شجرہ طیبہ درخت خرما ہے۔ اگر کوئی پرندہ اڑتا ہے تو تعبیر دینے والا جانے کہ یہ صاحب خواب سفر کرے گا۔ لہذا پرندے کی طبیعت کو بھی جاننا چاہیے۔ اگر کوا ہے تو وہ شخص ضرور شریر اور بد عہد ہے۔ خواب دیکھنے والا راست گو اور بادیانت ہونا چاہیے اور دیکھی ہوئی بات میں کمی اور زیادتی نہ کرے۔ کیونکہ اس سے خواب میں نقصان ہوتا ہے اور جو شخص خواب دیکھے اور اس سے ڈرے اسے تین بار آیتہ الکرسی پڑھ کر اپنے اوپر دم کرنا چاہیئے اور یہ دعا پڑھے : أَعُوذُ بِرَبِّ مُوسَى وَإِبْرَاهِيمَ مِنْ شَرِّ رُونَا الَّتِي رَأَتْتُهَا مِنْ تَنَامِي أَن تَضُرَنِي فِي دِيْنِي وَ كُنْهَايَ وَ مَعِيشَتِي عَزَّ جَارُكَ وَجَلَ تَنَالُوكَ وَلَا الهَ غَيْرُكَ ترجمہ : میں رب موسی علیہ السلام اور ابراہیم علیہ السلام کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں، اس خواب کی برائی سے جو میں نے اپنی نیند میں دیکھی ہے کہ میرے دین اور دنیا اور معاش میں نقصان پہنچائے۔ تیرا پڑوی زبردستی ہے اور تیری شنا بڑی ہے اور تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔" اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے اور صدقہ دے تو اس خواب کی برائی پھرے گی۔ حضرت مغربی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ ابلیس ملعون تمام خوابوں میں دست درازی کرتا ہے اور سب چیزوں