. - General
Topic: .
ہے : قل قُلْ هَلْ الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لا يَعْلَمُونَ ) (ان سے کہہ دو کہ عالم اور جاہل برابر نہیں ہو سکتے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ و اصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : لَا يَسْتَوِي الْعَالِمُ وَالْجَاهِلُ (علم والا اور بے علم برابر جاہل اس کو پھیرنا چاہیں تو ہونے والی چیز ضرور ہو کر رہے گی۔ کسی سے سوائے قضائے معلق کے جو صدقات سے دعا نہیں ہے) اور چونکہ خواب کو ظاہر کرنے والا فرشتہ ہے جو لوح محفوظ سے بتاتا ہے ، خبر پہنچے گی یا شرینچے گی۔ اگر عالم سے مل جاتی ہے، ہرگز پھر نہ سکے گی۔ جب ملک ریان (شاہ مصر) نے وہ خواب دیکھا جیسا کہ حق تعالی نے فرمایا ہے : قَالُوا أَضْعَاتُ أَحْلَامِ وَمَا نَحْنُ يَتَاوِيلِ الأَحْلَام بِعَالِمِينَ (انہوں نے جواب دیا کہ یہ دیا کہ یہ پریشاں خواب ہے اور ہم پریشاں خوابوں کی تاویل نہیں جانتے ہیں) بادشاہ نے اپنی قوم کو بلایا اور اپنے خواب کا حال پوچھا۔ ايُّهَا المَلوءَ افْتُونِي فِي رُونَايَ إِن كُنتُمْ لِلرُّوهَا تَعْبُرُونَ ( سردارو ! میرے خواب بابت فتوے دو۔ اگر تم خواب کی تعبیر بیان کر سکتے ہو پھر حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے تعبیر بیان کی اور سات سالہ قحط کا بیان دیا۔ یہاں سے معلوم ہوا کہ جاہلوں کی تعبیر سے خواب کا حق باطل نہیں ہو سکتا۔