. - General
Topic: .
عالموں کا خواب اس وجہ سے افضل ہے کہ خدا تعالی نے ان کو شرافت اور توفیق عنایت کی ہے تاکہ خلقت راہ راست پر لائیں اور خیرات اور طاعات کی لوگوں کو رغبت دیں۔ غلام کے خواب سے آقا کو فائدہ ہوتا ہے۔ کیونکہ غلام کو اس سے حصہ ملتا ہے اور مردوں کے خواب کو عورتوں کے خواب پر فضیلت ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو عورتوں پر چند چیزوں کی زیادتی سے ترجیح دی ہے۔ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا ہے : الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ (ترجمہ) مرد عورتوں پر غالب ہیں اور خدا تعالیٰ نے مرد ہی پیغمبر بنا کر بھیجے ہیں۔ اور دوسری جگہ فرمایا ہے۔ فَرَجُلٌ وَآمَرَا كَانَ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ (ترجمہ) پس ایک مرد اور دو عورتیں ان لوگوں میں سے جو شہادت کے لئے راضی ہوں۔ عقل کے نزدیک مردوں کا صبر اور بخشش رائے اور شجاعت، سخاوت اور امارت اور خدم و حشم وغیرہ ظاہر ہے اور عورتوں کی نسبت مرد فطرت میں زیادہ ہیں اور عورتوں کا خواب غلاموں کے خواب کے قریب ہے اور نیک لوگوں کے خواب کو بدکار لوگوں کے خواب پر فضیلت ہے۔ کیونکہ نیک لوگوں کا خواب طاعت کی طرف مائل ہوتا ہے اور گناہ سے دور ہوتا ہے اور بدکار لوگوں کا خواب ان پر قیامت کے دن کافروں کی طرح حجت ہو گا۔ کیونکہ بد کار آدمی گناہوں پر دلیری کرتا ہے اور مالدار کا خواب درویش کے خواب پر فضیلت رکھتا ہے۔ کیونکہ مالدار زکوۃ اور صدقات دیتا ہے۔ حج اور جہاد کرتا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : بدا العلماَ خَيْرٌ مِنْ بَنَا السُّفْلَى - (اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے۔ یعنی بخشنے والا لینے والے سے افضل ہے۔) رو دود ایک گروہ تعبیر بیان کرنے والوں کا کہتا ہے کہ درویشوں کے خواب کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ کیونکہ ان کا دل ہمیشہ کمائی کے غم اور عیال کی طرف سے پریشان رہتا ہے۔ درویش اگر کوئی اچھا خواب دیکھتا ہے تو اس کا اثر دیر کے بعد ظاہر ہوتا ہے اور اگر برا خواب دیکھتا ہے تو اس کا اثر جلدی ظاہر ہوتا ہے اور دولت والوں کا خواب درویشوں کے خواب کے برعکس ہوتا ہے۔ ہے۔ بالغ کا خواب معتبر ہوتا ہے کیونکہ اس پر شہوت غالب ہوتی ہے اور نابالغ لڑکا ادب اور اور عقل سے بے بہرہ ہوتا بعض تعبیر بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر نابالغ لڑکے کا خواب نیک ہو، تو اس کے ماں باپ کو نیکی پہنچتی ہے اور اگر خواب برا ہو تو ان پر اس کی برائی کا اثر پہنچتا ہے۔ نابالغ بچے کی خواب کی بابت دو قول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کا خواب راست اور درست ہوتا ہے اور اس کا حکم ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ بچے کا دل گناہ سے پاک اور برائی اور شغل دنیا سے بالکل فارغ ہوتا ہے۔ دوسرا قول یہ ہے بچوں کا خواب صحیح اور درست نہیں ہے۔ کیونکہ ان کو عقل اور تمیز نہیں ہوتی ہے۔ مست اور جنبی اور زن مائہ کا خواب درست ہوتا ہے۔ چنانچہ صفیہ ہند کی لڑکی نے خواب میں دیکھا کہ آسمان چاند اور سورج اس کی گود میں آگرے ہیں۔ جب بیدار ہوئی تو امیر خیبر کو اس خواب سے آگاہ کیا۔ امیر خیبر نے اس کے منہ پر طمانچہ مارا اور کہا کہ اگر تو یہ خواب سچ بیان کرتی