آتش (آگ) - حضرت جعفر صادق
Topic: آتش (آگ)
حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ اگر خواب میں دیکھے کہ آگ کے ٹکڑے کھاتا ہے تو اس امر کی دلیل ہے کہ یتیموں کا مال کھاتا ہے۔ فرمان حق تعالی ہے : الَّذِينَ یا كُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَنَى ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بطُونِهِمْ نَارًا وَ سَيَصْلُونَ سَعِيرًا (جو لوگ یتیموں کا مال ظلم سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں اور وہ جلدی دوزخ میں جائیں گے)۔ اگر دیکھے کہ اس کے منہ سے آگ نکلتی ہے تو اس امر کی دلیل ہے کہ جھوٹی بات اور بہتان لگاتا ہے اور اگر دیکھے کہ ہر جگہ آگ جلتی ہے تو دلیل ہے کہ رعیت اور بادشاہی لوگوں میں ایلیچی کا کام کرے گا اور اگر دیکھے کہ اس کے پہلو میں آگ روشن ہے اور کوئی نقصان نہیں کرتی ہے تو دلیل ہے کہ اس کو نیکی پہنچے گی۔ فرمان حق تعالیٰ ہے : افرائیم النَّارَ الَّتِي تُورُونَ (کیا تم نے اس آگ کو دیکھا ہے کہ جس کو تم روشن کرتے ہو)۔ اگر دیکھے کہ بڑی آگ لکڑیوں کو جلاتی ہے تو فتنہ اور جنگ پر دلیل ہے۔ فرمان حق تعالی ہے : كلما أَوْ قدو ناراًللحرب (جب وہ لڑائی کے لئے آگ بھڑکاتے ہیں)۔ اگر خواب میں دیکھے کہ آگ لوگوں کو جلاتی ہے تو دلیل ہے کہ اس کو دشمنوں پر فتح ہو گی اور اگر دیکھے کہ آگ نے اس کو جلا دیا اور اس میں روشنی نہ تھی تو دلیل ہے کہ مرض سرسام سے بیمار ہو گا اور اگر اس آگ میں نور دیکھے تو دلیل ہے کہ اس کے خویشوں اور فرزندوں میں سے کسی کے یہاں بچہ آئے گا کہ لوگ اس کی تعریف کریں گے اور اس نور آتش کے برابر بزرگی اور مال پائے گا اور اگر رزمگاہ میں آگ دیکھے تو یہ سخت بیماریوں کی دلیل ہے۔ جیسے ا طاعون سرسام مرگ ناگهانی و غیره خدا نخواستہ۔ اگر آگ دھوئیں کے ساتھ دیکھے تو اس امر کی دلیل ہے کہ اس کو بادشاہ سے ڈر اور خوف ہو گا اور اگر آگ کو بازار میں دیکھے تو یہ بازار والوں کی بے دینی کی دلیل ہے کہ بازار والے تجارت میں انصاف نہیں کرتے ہیں اور خریدی ہوئی چیزوں میں جھوٹ بولتے ہیں اور اگر کسی ملک میں آگ لگی ہوئی دیکھے تو دلیل ہے کہ وہاں کے لوگ بادشاہ کے ساتھ لڑتے ہیں اور اس سے رعایا پر ظلم ہوتا ہے۔ اگر نا معلوم مہینے میں آگ دیکھے تو بے دینی کی دلیل ہے اور اگر کسی کے کپڑوں کو آگ لگی ہوئی دیکھے تو دلیل ہے کہ اس پر مصیبت اور دہشت اور خوف پڑے گا اور اگر اپنے آپ کو آگ پر کھڑا ہوا دیکھے تو اس امر کی دلیل ہے کہ اس کو رنج پہنچے گا۔ آتش افروختن (آگ کا روشن کرنا)