. - General
Topic: .
نہیں پھرتا ہے اور ن یہ علم اصل سے لوگوں کے اس کا قیاس تعبیر کو نہیں چاہتا ہے اور اس طریق کو معلوم کرتا ہے۔ لیکن یہ احوال کے ساتھ صورت اور صفت قدر اور دیانت ہمت اور ارادت اور اوقات کے اختلاف سے بدل جاتا ہے۔ کیونکہ گا ہے تعبیر مثل اور اصل سے ہوتی ہے اور گاہے ضد کے ساتھ ہوتی ہے۔ گاہے واقفیت ہوتی ہے اور پریشان خواب بے اصل ہوتے ہیں۔ اور جان رکھو کہ ہر ایک علم کا عالم دوسرے علم سے بے پرواہ ہوتا ہے۔ لیکن تعبیر بیان کرنے والے کے لئے علم تفسیر قرآن اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کا علم اور امثال عرب و عجم اور نواور اور اشتقاق لغت اور الفاظ متداولہ جو ایک دوسرے سے نکلتے ہیں۔ ان سب کا جاننا ضروری ہے اور تعبیر بیان کرنے والے کے لئے بزرگ اور لطیف اور ادیب ہونا بھی ضروری ہے اور تعبیر بیان کرنے والے کے حالات اور خصائل اچھی طرح جانتا ہو۔ اور ہر وقت حقانی توفیق کا طالب رہے تاکہ حق تعالی اپنے کرم کے ساتھ اس کی راہنمائی کرے اور اس کی زبان صالح اور نیک ہو اور یہ باتیں خدائے تعالے کی طرف سے ایسے آدمی کو عنایت ہوتی ہیں کہ اس کی طبیعت سب باتوں سے پاک ہو اور لقمہ حرام کھانے اور بیہودہ باتوں سے بچنے والا ہو اور گناہوں سے محترز ہو تاکہ سر رشتہ علماء اور انبیاء علیہم السلام کے وارثوں میں شمار کیا جائے۔ لہذا عقل مندوں پر علم تعبیر کا جاننا اور اس کے قواعد کا پہچاننا واجب ہے۔ کیونکہ اس علم کی طرف ہر ایک شخص عام اور خاص جاہل اور عالم کو محتاجی ہے۔ لیکن وہ لوگ کہ جن کی شان میں حق تعالے نے ارشاد فرمایا ہے : اول ہے : أُولَئِكَ كَالَا نُعَامِ بَلْ هُمْ أَضَلُّ أُولَئِكَ هُمُ الْغَافِلُونَ ) ( ترجمہ ) کہ وہ لوگ چوپاؤں جیسے ہیں۔ بلکہ ان سے بھی زیادہ گمراہ ہیں، وہی لوگ غافل ہیں) ایسے لوگوں کو ضرورت نہیں ہے اور اللہ تعالی بہتری کو خوب جانتا ہے۔ کتاب کامل التعبير سے حرف الحاء