. - حضرت ابن سیرین
Topic: .
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ باوجود یکہ علم تعبیر کے یکتا امام تھے۔ لیکن جس خواب کی تعبیر ان کی سمجھ میں نہیں آتی تھی اس کی تعبیر ہرگز بیان نہیں کرتے تھے۔ ابو حاتم اصمعی اور حضرت ابو المقدم سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت امام ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجبر کو چاہئے کہ وہ پہلے سائل کی بات کو خوب اچھی طرح سے سن لے اور اس کی تعبیر کو خوب سمجھے اور اس میں غور و شامل کرے۔ اگر کوئی بات سخت ہو لیکن اس کے معنے صحیح ہوں تو جیسا کچھ اور جس طرح سے اس کی تعبیر کا احتمال ہو اسی کے مطابق اس وقت تعبیر کر دے اور اگر بات کے درمیان کوئی زائد اور فضول مضمون ہو تو اس زائد مضمون کو الگ کر دے اور اصل بات کی تعبیر کرے۔ اگر تمام خواب بے جوڑ اور مختلف ہو اور اور اس کا کوئی مضمون باہم ایک دوسرے سے ملتا نہ ہو تو ایسے خواب کو پریشان خواب سمجھے اور اس کی تعبیر نہ کرے۔ اگر سائل خواب کو کچھ نہ کر سکے اور مجبر کو اس کی تعبیر معلوم نہ ہو سکے تو ایسی حالت میں سائل کے نام سے تعبیر کر دے۔ یا اس کی طبیعت بیان گفتگو خوب صورتی اور بدصورتی، سچ اور جھوٹ وغیرہ کو ملحوظ رکھ کر تعبیر معلوم کرلے۔ اگر اس کے خواب کی تعبیر بری آتی ہو تو سائل سے بیان نہ کرے اور اس سے پوشیدہ رکھے۔ حضرت امام ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معتبر قبرستان میں خواب کی تعبیر نہ کرے۔ ترجمہ : علماء ربانی (عالم با عمل) پیغمبروں کے وارث ہوا کرتے ہیں۔ مولف