D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

. - General

Topic: .

یت الہی کی بدولت آپ اخلاق و خوش معاملگی اور انکسار و فروشنی کی نعمت بدرجہ اتم عطا ہوئی تھی اور اخلاق حمیدہ اور خو پر یہ حالت طاری تھی کہ آپ کو دیکھ کر خدا یاد آتا تھا۔ اشعث کہتے ہیں کہ جب ابن سیرین سے حلال و حرام کے متعلق کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا تو آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا تھا۔ سفیان ثوری نے زہیرا قطع سے روایت کی ہے کہ جب ابن سیرین کے سامنے موت کا ذکر آتا تو آپ کے اعضاء و جوارح بالکل مردہ و بے حس ہو جاتے تھے مہدی کہتے ہیں کہ ایک دن ہم ابن سیرین کی مجلس میں بیٹھے تھے۔ علمی مذاکرے ہو رہے تھے۔ اتفاق سے کسی شخص نے موت کا ذکر چھیڑ دیا۔ معا" آپ کا چہرہ زرد پڑ گیا اور آپ پر سکرات کی سی حالت طاری ہونے لگئی۔ آخر جب تک ہم نے آپ کی طبیعت کو بے تکلف دوسری طرف متوجہ نہ کر دیا۔ آپ کی حالت نہ سنبھل سکی۔ ابن حبان محدث کا قول ہے کہ آپ بھریوں میں سب سے زیادہ متقی تھے۔ یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو امام حسن بصری پر فوقیت دی ہے۔ کمال تقویٰ کی نادر مثال جس طرح حضرت یوسف صدیق علیہ الصلوۃ والسلام کو اپنے کمال تقویٰ کا خمیازہ سالہا سال کی اسیری میں شکل میں بھگتنا پڑا تھا۔ اسی طرح آپ کو بھی اسی تقویٰ کی بدولت سنتِ یوسفی پر عمل پیرا ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تھی۔ ابن سعد محدث کا بیان ہے کہ میں نے محمد بن عبداللہ انصاری سے دریافت کیا کہ ابن سیرین کس جرم میں زندان بلا میں محبوس رہے؟ انہوں نے بتایا کہ آپ نے چالیس ہزار درہم (قریبا دس ہزار روپے) کا انتاج بغرض تجارت خریدا تھا۔ اس خریداری کے بعد آپ کو معلوم ہوا کہ بالعہ نے اس اناج کی پیداوار بعض ایسے طریقوں سے کی ہے۔ جو شرعا" مشکوک ہیں۔ آپ نے سارا غلہ غرباء و مساکین میں تقسیم کر دیا اور اس کی قیمت آپ کے ذمے واجب الادا رہ گئی اور چونکہ آپ اس قرضہ کو بروقت ادا نہ کر سکے۔ قرض خواہ عورت نے آپ کے خلاف دعوی دائر کر دیا اور آپ کو قید کرا دیا اور آپ اس وقت تک برابر اسیر و مقید رہے جب تک کہ ساری رقم ادا نہ کر دی۔ ابن سیرین کے رو کے اساتذہ و تلانده جن صحابہ اور جلیل القدر تابعین نے آپ کو نسبت تلمذ حاصل ہے۔ شیخ ابن حجر عسقلانی نے ان کے اسماء گرامی تهذیب التہذیب میں یہ لکھے ہیں : انس بن مالک حسن ابن علی ابن ابی طالب، جندب بن عبد اللہ بجلی حذیفہ بن یمان رافع بن خدیج سلیمان بن عامر سمرہ بن جندب، عبد الله بن عمر عبد اللہ بن عباس، عثمان بن ابی العاص ، عمران بن حصین، کعب بن عجرہ معاویہ بن ابو سفیان ابودرداء ابو سعید ابو قتادہ ابو ہریرہ ابو بکر ثقفی، ام المومنین عائشہ صدیقہ حمید بن ابن عبدالرحمن حمیری، عبدالله بن شفيق عبد الرحمن بن ابي بكرة عبيدة السلمانی، عبدالرحمن بن بشرین مسعود، قیس بن عباد كثير بن افلح، عمرو بن وهب مسلم بن سیار، یونس بن جبیر ابو مهلب جرمی اور ان کے بھائی مہلب اور کسی حفصہ، یحی بن ابی اسحاق حضرمی اور خالد حذاء جو اسحاق حضری کے شاگرد تھے۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین ان کے علاوہ بعض کبار تابعین سے بھی روایت کی۔ تابعین اور تبع تابعین میں سے مندرجہ ذیل حضرات نے آپ سے شرف تلمذ حاصل کیا :