گیارہویں فصل - حضرت جعفر صادق
Topic: گیارہویں فصل
حضرت جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا ہے کہ خواب اصل سے دین صنعت اور حرفت اور کسب کے لحاظ سے نہیں پھرتا ہے۔ ایک ہی خواب کی مختلف تاویل عذاب ہے۔ حق تعالی کا فرمان ہے : غلت ايديهم و لعنوا بما قالوا ان کے ہاتھ جکڑے گئے اور ان کی باتوں کی وجہ سے لعنت پڑی جب یہ خواب نیک آدمی دیکھتا ہے تو دلیل ہے کہ گناہوں اور برے کاموں سے دستبردار ہو گا۔ محمد بن عبدالعزیز صحیح سند کے ساتھ عبدالرحمن اسلمی سے روایت کرتے ہیں کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت صدیق رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالی عنہ میں بھائی چارہ کر دیا اور سلمان رضی اللہ عنہ نے ایک خواب دیکھا اور حضرت صدیق رضی اللہ عنہ سے بیان کیا اور اس خواب کا سبب ان سے دور ہوا۔ صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قیامت تک تمہارے سر سے ہاتھ کو تاہ ہوا۔ سلمان رضی اللہ تعالی عنہ نے اس خواب کی آنحضرت کو خبر دی۔ آپ نے بھی وہی تاویل بیان کی جو حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی۔ ابو مسلم رضی اللہ تعالی عنہ عطا بن جناب سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو شخص خواب میں منبر پر ہے۔ اس کی تاویل یہ ہے کہ اگر وہ شخص نیک ہے تو شرف اور بزرگی پائے گا اور اگر وہ برا ہے تو پھانسی پر لٹکایا جائے گا۔ عدید الحدیث میں ہے کہ احمد بن سعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میرے گھر کی چھت کا ستون مجھ پر ٹوٹا ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا شوہر سفر سے آئے گا۔ دوسری نے بھی یہی خواب دیکھا اور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ سے تعبیر پوچھی۔ آپ نے فرمایا کہ تیرا شوہر مرے گا۔ دونوں عورتوں کا خواب واحد تھا۔ لیکن وقت کے تعبیرے تعبیر مختلف ہوئی۔ حضرت ابو حاتم اصمعی سے روایت کرتے ہیں کہ اشعری نے پوچھا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گیہوں کو جو کے بدلے بیچتا ہوں۔ آپ نے جواب دیا کہ تم قرآن مجید کو شعر سے بدلتے ہو۔ آدمی کی حالت کی تبدیلی سے گیہوں اور جو اپنی اصلیت سے بدل گئے۔ اگر کوئی یہی خواب دیکھے تو اصمعی کے ساتھی کی بات یاد رکھے۔ کرمانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے جو شخص فصل بہار میں خواب دیکھے نیک ہے۔ لیکن اس کی تاویل دیر کے بعد ظاہر ہو گی اور گرمی .. . خزاں کی فصل میں خواب