پانچویں فصل - حضرت ابن سیرین
Topic: پانچویں فصل
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ جو لوگ اصحاب ہمت ہیں۔ جیسے عاشق معشوق کو خواب میں دیکھے یا حرفہ والا اپنے خواب میں اپنا پیشہ دیکھے جیسے جولاہا کپڑے کو اور آہن گر لوہے کو۔ تعبیر بیان کرنے والے پر لازم ہے کہ خواب کو دوبارہ پوچھے کہ کل کیا کھایا تھا اور کسی خیال میں سویا تھا، پھر تعبیر بیان کرے۔ یا کوئی آدمی خواب کے اندر برف اور باراں، بیخ اور کے کپڑے اس سے علیحدہ ہوں گے۔ یہ برہنگی اور بے سرومائیگی اس کے خواب کا باعث ہو گی۔ لہٰذا یہ خواب بے حقیقت ہے۔ سرما میں گرفتار ہے۔ جب بیدار ہو گا تو نیند اگر خواب میں دیکھے کہ حمام میں تھا یا و تھا یا دھوپ اور گرمی یا ہو پائے گا۔ خواب میں ایسی گرمی محسوس کرنا کثرت پارچات کے باعث ہے۔ لہٰذا یہ خواب بے حقیقت ہے۔ گرمی میں تھا اور جب جاگے گا تو اپنے آپ کو بہت سے کپڑوں میں لپٹا اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ بیماری اور جسمانی درد سے رو رہا ہے اور بیمار پڑا ہوا ہے اور در حقیقت بیمار بھی تھا تو یہ خواب بھی بے اصل ہے۔ اگر کوئی شخص خواب میں دیکھے کہ بول کرتا ہے اور جاگا تو کپڑے میں بول کیا ہوا دیکھا یا معلوم کیا کہ بول زور سے آ رہا ہے۔ ایسے خواب بے حقیقت ہیں اور ان کی کوئی تعبیر نہیں ہے۔