D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

تیسری فصل55 - General

Topic: تیسری فصل55

نفس اور روح کے یاد کرنے کے بیان میں قرآن مجید میں حق تعالی کا ارشاد ہے : الله يتولى الانفس حين موتها والتي لم تمت فِى مَنَامِهَا فَيَمُسُكُ التي قَضَى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْأُخْرَى إِلى أَجل مسمى (ترجمہ) اللہ تعالی موت کے وقت جانوں کو بھر پور کر دیتا ہے اور اس کو جو اپنی نیند میں نہیں مرا ہے جس پر موت کا حکم ہے اس کو روک لیتا ہے اور دوسرے کو وقت مقرر تک چھوڑ دیتا ہے۔) علماء اور حکماء کے درمیان نفس اور روح کے بارے میں اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ دونوں ایک ہی چیز ہے۔ نفس اور روح کے معنے جان ہیں۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ کلام عرب میں نفس کے آٹھ سنے ہیں۔ جان خون، آب منی، براز، ہمت، جسم، ہاتھ اور روح کے بارہ سنے ہیں۔ جان باد کلام روح القدس باران، وحی، افسون، مسیح، مریم زندگانی فرشته رحمت حق تعالی۔ اور حکماء کی دوسری جماعت کہتی ہے کہ خواب دیکھنے والے کی جان جسم سے نکلتی ہے اور آسمان پر جاتی ہے اور دیکھے سنے کو یاد رکھتی ہے اور بیداری کے وقت پھر جان جسم میں آتی ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص طہارت سے سوتا ہے اور ذکر حق زبان پر جاری رکھتا ہے۔ اس کی جان کو آسمان پر لے جاتے ہیں۔ بعض تعبیر بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ حدیث آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وسلم کا فرمان نہیں ہے۔ اگر سوئے ہوئے آدمی کی جان جسم سے جاتی تو سانس لینے کی حرکات باقی نہ رہتیں۔ چونکہ سونے والا سانس لیتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ جان جسم میں رہتی ہے۔ بعض لوگ جان اور روان میں فرق کرتے ہیں کس وتے وقت روان جسم سے نکلتی ہے اور جہان کے گرد گھوم کر پھر جسم میں واپس آ جاتی ہے اور دیکھی ہوئی چیز کی جان کو خبر دیتی ہے۔ اس کی یہ دلیل بیان کرتے ہیں کہ جان قرص آفتاب کے مشابہ اور روان آفتاب کی روشنی کے مشابہ ہے۔ جیسے آفتاب کا قرص چوتھے آسمان پر ہے اور اس کی روشنی سارے جہان میں ہے۔ اور حکماء کی ایک جماعت کہتی ہے کہ جان اور روان ایک ہی چیز ہے۔ دونوں میں فرق نہیں ہے۔ کیونکہ ان کی صفت قیاس عقلی کے مطابق ایسی ہے جیسے برف پانی سے اور پانی برف سے ہے۔ اور حکیم ارسطاطالیس کے نزدیک نفس مبتدار اول ہے اور روح سے زیادہ شریف اور بزرگ ہے۔ لیکن نفس اور روح کی حقیقت ہم نے اپنی کتاب سماز المسائل میں بیان کر دی ہے اور حکماء کے اقوال اس میں درج کر دیئے ہیں۔ اہل سنت و الجماعت کے نزدیک روح امر رب ہے۔ چنانچہ حق تعالی کا ارشاد ہے : وَيَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُل الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي - (ترجمہ) جو لوگ آپ سے روح کی بابت سوال کرتے ہیں، ان سے کہہ دو کہ روح میرے رب کا امر ہے۔ ہمارا اعتماد حق تعالے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ و سلم کے فرمان پر ہے اور حکماء کے اقوال بیان کرنے کا یہ منشاء ہے کہ یہ کتاب ان کے ذکر سے بھی خالی نہ رہے۔ حق تعالی ہم کو دین الہی اور سنت پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم پر قائم رکھے اور توفیق و کرامت عنایت فرمائے۔