D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

دوسری فصل - حضرت کرمانی

Topic: دوسری فصل

حضرت کرمانی رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب تین قسم پر ہیں۔ ایک قسم حق تعالے کی طرف سے بشارت ہے۔ دوسری قسم شیطان کا وسوسہ ہے۔ تیسری وہ بات ہے جو خیال میں جم جاتی ہے اور شوق کی وجہ سے اس کو خواب میں دیکھتا ہے۔ سچی خواب فرشتے کی صورت ہوتی ہے کہ کرنے کی چیز کی لوح محفوظ سے بشارت دیتا ہے۔ یا باخدا شخص کو آتی ہے کہ قبل از وقت اس کی شرارت سے محفوظ رہے لہذا جو شخص خواب دیکھ کر بھول جائے۔ تعبیر بیان کرنے والا اس سے توبہ کرائے اور خواب کا بھلانا گناہ ہے۔ کیونکہ خواب کا نمائندہ ممکن ہے کہ لوح محفوظ سے کوئی فرشتہ ہو۔ حضرت مغربی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خواب دو قسم پر ہیں۔ ایک سچا دوسرا جھوٹا اور سچا خواب تین قسم پر ہے۔ ایک بشارت دوسرے تنبیہہ اور تیسرے الہام - بشارت کی قسم یہ ہے کہ حق تعالی نے ایک فرشتہ لوح محفوظ پر مقرر کیا ہوا ہے۔ تاکہ جو کچھ نیکی اور بدی فرزند آدم کے سر پر آنے والی ہے اس کو اس کی اطلاع کرے اور اس پر خواب میں ظاہر کرے۔ اس فرشتے کا نام ملک الرویا ہے۔ کسی کو بشارت پہنچانی ہوتی ہے تو خواب کا فرشتہ خواب میں ظاہر کر دیتا ہے اور خواب تنبیہہ یہ ہے کہ فرشتہ اس کو ڈراتا ہے اور آنے والی چیز کی اطلاع دیتا ہے تاکہ خواب دیکھنے والا اطاعت کرے اور گناہ سے بچے اور اس کے باعث عبادت اور فرماں برداری کرے اور آنے والی بدی سے امن میں رہے۔ حق تعالی کا ارشاد ہے : وتوبو الى الله ابها الْمُؤْمِنُونَ ونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ "اے ایمان والو ! اللہ تعالی کی طرف رجوع کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔" خواب الهام یہ ہے کہ حق تعالی فرشتے کو حکم دیتا ہے کہ وہ بندے کو خواب میں الہام کرے تاکہ وہ صدقہ دے اور جہاد کرے اور حق تعالے کی طرف رجوع کرے اور گناہ سے بچے اور خلقت کے ساتھ احسان کرے۔ جھوٹے خواب کی بھی تین قسمیں ہیں۔ ایک خواب ہمت دو سرا خواب علت تیسرا خواب شیطانی یعنی پریشان و پراگندہ خواب ہمت یہ ہے کہ جو کچھ بیداری میں سوچ رہا تھا۔ وہی کچھ خواب میں دیکھے۔ اس خواب کی اصل نہیں ہے اور نہ اس کی تاویل ہے۔ اور خواب علت یہ ہے کہ دکھیا آدمی جسمانی درد سے روتا ہے اور نیند میں وہی درد غلبہ کرتا ہے۔ بری اور خوفناک چیزیں خواب میں دیکھتا ہے اور اس خواب کا باعث درد ہوتا ہے۔ اس خواب کی بھی اصلیت نہیں ہوتی ہے۔ اور خواب شیطانی یہ ہے کہ جسم ٹوٹتا ہے یا نا ممکن چیز کو دیکھتا ہے اس کی بھی تعبیر اور تاویل نہیں ہوتی ہے۔ چنانچه حق تعالی کا فرمان بطور نقل ہے۔ وَمَا نَحْنُ بِتَاوِيلِ الأَحْلامِ بِعَالَمِينَ "ہم پریشان خوابوں کی تاویل کے عالم نہیں ہیں۔" اور امیر المومنین حضرت کرم اللہ وجہ نے ارشاد فرمایا ہے کہ حق تعالی کی عجائبات خلق میں سے ایک خواب بھی ہے اور نیز جو کچھ خواب میں اللہ تعالی کے حکم سے نیکی اور بدی پہنچتی ہے۔ ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب کے عجائبات میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی خواب میں خیر اور منفعت اور راحت دیکھتا ہے یا شر اور آفت دیکھتا ہے اور وہی خیر اور راحت یا شر اور آفت بالکل بیداری میں دیکھتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے لوگ کند فہم اور کند زبان ہوتے ہیں۔ جو بیداری میں لمبی بیت یا شعر یاد نہیں کر سکتے ہیں خواب میں پڑھ کر یاد کر لیتے ہیں اور بیداری میں درست پڑھتے ہیں اور بہت سے جاہل لوگ ہوتے ہیں کہ حکمت کی باتیں اور اچھے الفاظ بیان کرتے ہیں جو انہوں نے خواب میں یاد کئے ہیں جن کو کوئی حکیم اور عالم بھی نہیں بیان کر سکتا ہے اور بیداری میں بھی ان کو درست بیان کر دیتے ہیں۔