کشتی - حضرت ابن سیرین
Topic: کشتی
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے۔ اگر کوئی خواب میں دیکھے کہ کشتی میں ہے اور وہاں سے سلامتی کے ساتھ باہر نکلا ہے۔ دلیل ہے کہ رنج سے نجات پائے گا۔ فرمانِ حق تعالیٰ ہے : فَانْجَيْنَاهُ وَمَنْ مَعَهُ فِي الْفُلْكِ المَشْعُونِ (ہم نے اس کو اور اس کے ساتھ والوں کو بھرے بیڑے سے نجات عنایت کی)۔ اور اگر دیکھے کہ دریا میں کشتی تباہ ہوئی ہے۔ دلیل ہے کہ کسی قوم کے ہاتھ سے ہلاک ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ اس کی کشتی زمین پر رہی ہے۔ دلیل ہے کہ رنج اور بلا میں گرفتار ہو گا اور دیر سے نجات پائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی غرق ہوئی اور وہ سلامت رہا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کا مال ضائع ہو گا اور خود بچے گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی ٹوٹی اور سب کچھ فرق ہوا ہے۔ دلیل ہے کہ اس پر بڑی مصیبت آئے گی۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی میں اونچی جگہ پر بیٹھا ہے اور کشتی پانی میں چل رہی ہے۔ دلیل ہے کہ اسکو بادشاہ اور سرداروں کے پاس قرب اور مرتبہ حاصل ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا کے درمیان کشتیاں اور بیڑے چل رہے ہیں۔ دلیل ہے کہ سفر کو جائے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے : وَلَهُ الْجَوَارِ الْمُنْشَاتِ فِي الْبَحْرِ كَالْأَعلام اور اس کے لئے دریا میں بھری کشتیاں جھنڈوں کی طرح قائم ہیں)۔ اور اگر دیکھے کہ کشتیاں کھڑی ہیں۔ دلیل ہے کہ سفر کو جائے گا اور دیر تک رہے گا۔ بلکہ اس سفر میں مقیم ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی میں بیٹھا ہے اور عمدہ ہوا آئی ہے اور کشتی کو اچھی طرح چلا رہی ہے۔ دلیل ہے کہ غم و اندوہ سے نجات پائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ کشتی کھڑی ہے اور ہر طرف سے موج آ رہی ہے۔ دلیل ہے کہ اس کو سختی پیش