عدد (شمار) - حضرت ابن سیرین
Topic: عدد (شمار)
حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔ اگر دیکھے کہ درم، دینار یا کپڑے وغیرہ میں سے ایک اس کو کسی نے دیا ہے۔ دلیل ہے کہ خیر اور نیکی دیکھے گا۔ فرمان حق تعالی ہے : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَتِهِ لَلَهُ عَشَرُ أَمْثَالِهَا (جو شخص ایک نیکی لایا اس کے لئے اس سے دس گنا ہے) اسی لئے اہل تعبیر نے بیان کیا ہے کہ دس کی اصل ایک ہے۔ حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ ایک عدد نیک ہے اور دو کا عدد غم و اندوہ ہے۔ لیکن دشمن پر فتح پائے گا۔ ثَانِيَ اثْنَيْنِ إِنْهُمَا فِي الْغَارِ (دو میں کا دوسرا جب وہ غار میں تھا)۔ اگر شمار کا عدد دیکھے تو بد ہے اور اس کام سے فائدہ نہ اٹھائے گا۔ فرمان حق تعالیٰ ہے : الَّا تُكَلِّمُ النَّاسِ تَلْكَ أَيَّامٍ کہ لوگوں سے تین روز تک کلام نہ کرنا)۔ تین کا لفظ جدائی پر دلالت کرتا ہے۔ کیونکہ طاق عدد ہے اور چار کا عدد نیک ہے۔ جب دوسری اور چیز شامل نہ ہو - مَا يَكُونُ مِنْ تَجْوى تَلْ إِلَّا هُوَ رَائِهُمْ (تین مخصوں کی سرگوشی میں وہ چوتھا ہوتا ہے)۔ اور اگر پانچوں اور اگر پانچوں نمازوں کو صاحب خواب قائم رکھتا ہے۔ تو پانچ کا عدد نیک ہے اور چھ کا عدد نیک ہے۔ خلقی السَّمُوتِ وَ الْأَرْضِ فِي تِ امام (زمین اور آ ین اور آسمان چھ روز میں بنائے)۔ چھ روز میں اور سات کا عدد دیکھنا بد ہے۔ سبع سمواتِ طباقاً سات آسمان طبق پر طبق) اور - اور سات اور آٹھ اور بھی بد ہیں۔