D
Dreams Encyclopedia
Explore symbols, topics & titles

دریا - حضرت ابن سیرین

Topic: دریا

حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ خواب میں دریا بادشاہ یا بڑا عالم ہے اور اگر دیکھے کہ دریا کا پانی روشن، صاف اور مزے دار ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ پارسا عادل اور منصف ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ پانی میلا اور بے مزہ ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ فسادی اور ظالم ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ اس نے دریا کا پانی پیا ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ سے عزت اور مرتبہ پائے گا یا عالم سے نفع پائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا سے پانی لے کر ملکے میں ڈالا ہے۔ دلیل ہے که ای قدر اس کو بادشاہ سے نفع حاصل ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا میں ڈوبا ہے اور اس کا جسم کیچڑ سے بھر گیا ہے۔ تو دلیل ہے کہ اس کو بادشاہ سے غم و اندوہ پہنچے گا۔ اور اگر دیکھے کہ اپنے جسم کو مٹی سے دھویا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کا غم و اندوہ زائل ہو دریا کے پانی میں تیرتا ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ اس کو قید کرے گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا سے تیر کر نکلا ہے۔ دلیل ہے کہ قید سے رہائی پائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا میں غرق ہو مر گیا ہے۔ تو دلیل ہے کہ دین کے کام میں غرق ہو گا۔ ہو گا اور اور اگر دیکھے کہ دور سے دریا کو دیکھا ہے اور نزدیک نہیں گیا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کی امید پوری ہو گی۔ اور سے د اگر ا کھے کہ دریا پر تے گزرا ہے اور اس کے پاؤں ترنہ اتر نہیں ہوئے۔ دلیل ہے کہ دوزخ کی آگ سے امن میں ہو ؟ دنیا کے کام اس پر آسان ہوں گے۔ حضرت ابراہیم کرمانی رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا ہے کہ اگر دیکھے دریا میں ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ کی خدمت میں تابعدار اور فضیلت والا ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ درمیان دریا کے گیا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کا کام با خطر ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا سے نکلا ہے۔ دلیل ہے کہ بے غم ہو گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا سے ٹھنڈا پانی پیا ہے اور خواب دیکھنے والا عالم ہے۔ دلیل ہے کہ پورا نصیب پائے گا۔ اور اگر خواب دیکھنے والا پورا عالم نہیں ہے تو اس کی تاویل اول کے خلاف ہے۔ فرمان حق تعالی ہے : قُل لَوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادَ الكَلِمَاتِ رَبِّي لَنَفِدَ الْبَحْرَ قَبْلَ أَنْ تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَبِّي (کہہ دو کہ اگر دریا میرے رب کے کلمات کے لئے سیاہی ہو جائیں۔ تو میرے رب کے کلمات ختم ہونے سے پہلے دریا ختم ہو جائیں گے)۔ اور اگر خواب دیکھنے والا بادشاہی لوگوں سے ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ کے معتبر لوگوں میں سے ہو جائے گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا کے پانی سے اپنے آپ کو دھویا ہے۔ دلیل ہے کہ بادشاہ سے امن میں رہے گا۔ اور اگر دیکھے کہ دریا کا گرم پانی پیا ہے۔ دلیل ہے کہ گناہ کرے گا۔ فرمانِ حق ہے : وَسُقُوا مَاءَ حَمِيمًا لَقَطَّعَ امْعَاءهُمْ (اور ان کو کھولتا ہوا پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتوں کو کاٹے گا)۔ اور اگر دیکھے کہ دریا کا پانی گندہ اور بے مزہ پیا ہے۔ دلیل ہے کہ اس کا سامنا بڑے خوفناک دشمن سے ہو گا۔ فرمان حق تو حق تعالی ہے : يَتَجَر : يَتَجَرَّعَهُ وَلَا يَكَادُ يَسِيفُہ اس کو گھونٹ گھونٹ کر کے پئے گا اور نگل نہ سکے گا)۔ کر کے