صدق - حضرت اسماعیل
Topic: صدق
إِنِّي أَرَى فِي الْمَنَامِ أَنِّي الْحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَى ، قَالَ كَابَتَ الْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ وَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينَ وَنَادَيَنَّهُ أَنْ يَابْرَاهِمْ قَدْ صَلَّقْتَ الرُّؤيَا إِنَّا كُنْلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ ) (ترجمہ) اسماعیل ! میں نے تجھے خواب میں دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ تو اپنی رائے بتا۔ جواب دیا۔ اے میرے باپ ! جو آپ کو حکم ہوا ہے بجالائیں، آپ مجھے انشاء اللہ صابروں میں پائیں گے۔ جب دونوں اللہ کے حکم کے مطیع ہوئے اور حضرت ابراہیم نے حضرت اسماعیل کو ماتھے کے بل بچھاڑا تو خدا تعالی نے ابراہیم علیہ السلام کو پکارا اور کہا اے ابراہیم ! تو نے خواب سچ کر دکھلایا۔ تحقیق ہم محسنین کو اسی طرحجزا دیتے ہیں)۔ اور حدیث شریف میں اس طرح آیا ہے کہ یہ علم حضرت یوسف علیہ السلام کا معجزہ تھا اور جو علم پیغمبری کا معجزہ ہو وہ یقینا" بزرگ اور شریف علم ہوتا ہے اور بعض انبیاء علیہم السلام جو پیغمبر مرسل نہ تھے، ان کو خواب کرامت ہوتی تھی۔ وں نے اس آیت کی . اور ہشام بن عروہ رضی اللہ عنہا اپنے باپ عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ تعبیر میں ارشاد فرمایا ہے ۔ ہے لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الحَمُوةِ الدُّنْيا (ان کے ۔ کے لئے دنیا کی زندگی میں خوش خبری ہے) اس بشارت ہے۔ خواب کی تصدیق میں بہت سی آیات اور احادیث موجود ہیں اگر سب کو ذکر کیا جائے تو کتاب بہت بڑی ہو جائیگی۔ سے اللہ تعالی کی مراد نیک لوگوں کا خواب ہے کہ نیک مرد خود خواب دیکھتا ہے یا کوئی اس کے لئے خواب و مر اور حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ لی عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے۔ الرؤيا جزء مِنْ سِهِ وَ ارْبَعِينَ جُزْءً مِنَ اللَّنبوة (سچا خواب دیکھنا نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے)۔ یہ حدیث شریف اس لئے ارشاد فرمائی ہے کہ آپ چالیس سال کے تھے کہ جب آپ پر وحی ربانی آئی اور تریسٹھ سال کے تھے کہ جب دنیا سے سفر کیا۔ وحی اور دنیا سے سفر کے درمیان تئیس سال کا عرصہ ہے اور جو کچھ چاہتے تھے خواب میں چھ ماہ کے عرصے میں دیکھتے تھے۔ چھ ماہ کو تئیس سال کے ساتھ وہی نسبت ہے جو ایک پہر کو چھیالیس پر کے ساتھ نسبت ہے۔ اس لئے آپ نے یہ ارشاد فرمایا ہے کہ سچا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہے۔ دوسرے پیغمبروں کا بھی یہی حال تھا کہ جو کچھ وہ چاہتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو خواب میں دکھاتا تھا اور حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ سچا خواب وحی ہے تاکہ دیکھنے والا نیک و بد سے مطلع ہو جائے تاکہ دنیا میں مغرور نہ ہو اور امر حق سے غافل نہ رہے۔ اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے روایت کی ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے آپ کے سامنے آپ کے اصحاب غمناک آئے اور عرض کی کہ آپ ہم کو بہتری کی خبر دیتے تھے۔ اگر خدا نخواستہ آپ فوت ہو گئے تو ہم کو کار دین کے اختیار کرنے کی کون ترغیب دے گا؟ اور اس کی تدبیر کی خبر کیسے جائیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم نے ارشاد فرمایا - بَعدَ وَفَاتِي يَنقَطِعُ الْوَحَى وَلَا يَنْقَطِعُ الْمُبَشِّرَاتُ (میری وفات کے بعد وحی منقطع ہو جائے گی۔ لیکن کچی خوابیں منقطع نہ ہوں گی)۔ اصحاب کرام نے عرض کیا کہ یا حضرت مبشرات کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا : الرُّوا الصَّالِحَتَهُ الَّتِي بَرَاهَا لَهُ الْمَرْءُ الصَّالِحُ الْبُرَے کہ نیک خواب جس کو نیک مرد خود دیکھے۔ یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔) اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے سنا ہے کہ اپنے اصحاب کو فرماتے تھے کہ اگر کوئی تم سے اچھا اور نیک خواب دیکھے تو اللہ تعالی کا شکر بجا لائے اور وہ خواب اپنے برادر اور دوستوں کو بھی بتائے اور اگر نیک آدمی برا خواب دیکھے تو اَعُوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيمِ (میں اللہ تعالی کے ساتھ راندہ درگاہ شیطان سے پناہ مانگتا ہوں) پڑھے اور شیطان کی شرارت سے اللہ تعالی کی پناہ میں جائے اور وہ خواب کسی کو نہ سنائے تاکہ اس کو نقصان اور تکلیف نہ پہنچے۔ اور حضرت امیر المومنین علی بن ابو طالب کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا ہے کہ جب مومن کوئی خواب دیکھے یا اس کو خواب میں دیکھیں تو اس خواب کی تعبیر جاننی واجب ہے۔ ماکہ نیک خواب سے خوشی کا حصہ پائے اور برے خواب سے بچے۔ یعنی دعا اور عبادت اور صدقات میں مشغول ہو جائے۔