نواور (4) - حضرت اسماعیل
Topic: نواور (4)
(۳) کسی انسان کو بلا گناہ جان بوجھ کر ذبح کر دینا ایک بدترین اور نہایت کبیرہ گناہ ہے جس کی سزا قرآن مجید کی رو سے ہمیشہ ہمیشہ دوزخ میں رہنا ہے اور یہ بات تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے کہ انبیا گناہوں بالخصوص کبیرہ گناہوں سے بالکل فِي الْمَنَامِ أَنِّي اذ يک (ترجمہ) اے اسماعیل ! میں ۔ بالکل معصوم اور پاک ہوتے ہیں لیکن با اس ہمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو جب یہ خواب آیا کہ ان ادی ! میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے راہ خدا میں ذبح کر رہا ہوں تو ؟ حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسماعیل علیہ السلام کی رضا مندی سے ان کو ذبح کرنے کے لئے تیار ہو گئے چنانچہ ارشاد باری ہے : وَتَلَّهُ لِلْجَيِّينَ وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِمْ لَهُ صَلْتَ الرُّقْنَا إِنَّا كَنَالِكَ نَجْزِئُ الْمُحْسِنِينَ (ترجمہ) اور ابراہیم ! بے شک تو نے خواب کو سچ کر دکھایا ہے۔ ہم نیک لوگوں کو اسی طرح اجر دیا کرتے ہیں۔ پس اگر خواب کوئی اعلیٰ اور افضل چیز نہ ہوتی تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام محض خواب کی بنا پر اپنے لخت جگر کو ذبح کرنے کے لیے تیار نہ ہوتے اور خدا تعالی آپ کو امتحان میں پاس ہونے کا یہ بہترین اور زریں سرٹیفکیٹ عطا نہ فرماتا کہ کا إِبْرَاهِيمُ قَدْ صَلَّلت الرؤيا - اے ابراہیم ! بے شک تو نے خواب سچ کر کے دکھایا۔ پس اس آیت سے بھی خواب کی فضیلت روز روشن کی طرح ثابت ہو گئی اور ساتھ ہی لازمی طور پر یہ بھی ثابت ہو گیا کہ جس چیز میں اس اعلی و افضل چیز کا تذکرہ ہو وہ علم (علم تعبیر خواب) بھی اعلی و افضل ہوتا ہے۔ علم تعبیر کی فضیلت احادیث نبوی سے (1) حدیث شریف میں آیا ہے کہ علم تعبیر خواب حضرت یوسف علیہ السلام کا ایک علمی معجزہ تھا اور یہ ایک بدیسی (ظاہر) بات ہے کہ جو چیز پیغمبر کا معجزہ ہو وہ یقینا" افضل و اعلیٰ ہوا کرتی ہے۔ (۲) حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ الرُّوهَا جُزْوَ مِنْ سَتَدٍ وَارْبَعِينَ جُزء من النبوة (یعنی مومن کا خواب نبوت کا چھیالیسواں حصہ ہوتا ہے) تمام انسانی 1 کمالات میں نبوت سب سے اعلیٰ و افضل کمال ہے، جس کی وجہ سے انسان فرشتوں سے بھی افضل ہو جاتا ہے، تو جو چیز اعلی و افضل چیز کا جز (حصہ) ہو وہ بھی افضل و اعلیٰ ہی ہوا کرتی ہے۔ مکرر ثابت ہوا کہ خواب ایک اعلیٰ و افضل چیز ہے اور یہ بھی ثابت ہو چکا ہے کہ جس علم میں اعلیٰ چیز کا تذکرہ ہو وہ علم بھی اعلیٰ ہی ہوا کرتا ہے۔ لہذا ثابت ہوا کہ علم تعبیر ایک اعلیٰ و افضل چیز ہے۔ کیونکہ اس میں خواب جیسی اعلیٰ و افضل چیز کے حالات مذکور ہوتے ہیں۔ (۳) حدیث شریف میں آیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جناب سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ خواب بھی ایک قسم کی وحی ہے جس کے ذریعے خدا تعالے خواب دیکھنے والے کو اس بھلائی یا برائی سے مطلع کر دیتا ہے۔ جو اس کو پہنچنے والی ہوتی ہے۔ تاکہ وہ شخص دنیا میں مغرور نہ ہو جائے اور خدائے ذوالجلال کے حکم سے غافل نہ رہے۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ خواب ایسی اعلیٰ چیز ہے کہ گویا وہ وحی ہے۔ (۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے تو صحابہ کرام غمگین ہو کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کو ہم کار خیر سے مطلع فرمایا کرتے تھے۔ اگر اب خدا نخواستہ آپ کی اجل پہنچی تو ہم کو کون مطلع کیا کرے گا؟ اور دینی و دنیاوی امور کی خیر و بھلائی ہمیں کس طرح معلوم ہوا کرے گی؟ حضور علیہ السلام نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ بَعْدَ وَفَاتِي يَنْقَطِعُ الْوَحْى وَلَا يَنقَطِعُ الْمُبَشِّرَاتُ یعنی میری وفات . عرض کیا کہ مبشرات کیا چیز ہے؟ حضور کے بعد وحی تو ختم ہو جائے گی۔ لیکن مبشرات بند نہ ہوں گے۔ صحابہ کرام نے نے فرمایا کہ الرويا الصَّالِحَتَهُ الَّتِي بَرَاهَا الْمَرَأ الصَّالِحُ یعنی مبشرات وہ اچھے خواب ہیں جو نیک بندوں کو دکھائی دیتے ہیں۔ اس حدیث سے ثابت ہوا کہ اچھے خواب نبوت کے قائم مقام ہیں۔ یہ ظاہر ہے کہ جو چیز کسی اعلیٰ و افضل چیز کے قائم مقام ہو وہ ؟ ہو وہ بھی اعلیٰ و افضل ہی ہوا کرتی ہے۔ تو ثابت ہوا کہ خواب ایک اعلیٰ و افضل چیز ہے۔ یہ بھی بارہا ثابت ہو چکا ہے کہ جس علم کا موضوع اعلی و افضل ہو وہ علم بھی اعلیٰ و اعلیٰ و افضل ہی ہوا کرتا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ علم تعبیر خواب ایک اعلیٰ و افضل علم ہے۔ (۵) حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ایک دن صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ فرما رہے تھے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کوئی اچھا خواب دیکھے تو اس کو چاہیے کہ وہ حق تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس خواب کو اپنے مومن دوستوں اور بھائیوں کے سامنے بیان کرے اور اگر برا خواب دیکھے اور دیکھنے والا نیک بندہ ہو تو چند بار یہ کے۔ اعوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّحِيم (ترجمہ) میں راندے ہوئے شیطان سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں" اور اس خواب بد کو کسی سے بیان نہ کرے۔ تاکہ اس کو کسی قسم کا نقصان اور صدمہ نہ پہنچے۔ اس حدیث سے بھی خواب کی عظمت شان ثابت ہوتی ہے۔ جب ہی تو حضور علیہ السلام اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کو خواب کے بیان کرنے یا نہ کرنے کی تاکید فرماتے ہیں۔ اگر غیر ضروری یا اونی چیز ہوتی تو اس قدر تاکید نہ فرماتے۔ علم تعبیر کی فضیلت صحابہ کرام اور بزرگان دین کے اقوال سے م (1) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قول ہے کہ سب سے پہلی نعمت جو اللہ تعالیٰ نے انحضرت کو عطا فرمائی وہ یہ تھی کہ آپ نے خواب میں ایک مقرب فرشتے کو دیکھا جو آپ سے اس طرح ہم کلام ہوا کہ اے محمد ! صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو خوشخبری ہو کہ آپ کو اللہ تعالی نے اپنے انبیاء کے گروہ میں ممتاز فرمایا ہے اور آپ کو خاتم الانبیاء (آخری نبی) بنایا ہے اور آپ کے حق میں خدا تعالی نے یہ ارشاد فرمایا ہے : وَلكِنْ رَسُولَ اللَّهِ وَ خاتم النبین یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں سے کسی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ بلکہ اللہ کے رسول اور آخری نبی ہیں۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم پیدا ہوئے تو آپ نے اس کی تعبیر خواب نبوت سے فرمائی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس قول سے ثابت ہوا کہ خواب ایک اعلیٰ و افضل نعمت ہے جس کی بدولت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبری کی بشارت ملی اور جس کے ذریعے آپ کو مقرب فرشتے (جبریل علیہ السلام) کی زیارت حاصل ہوئی تو جس علم میں ایسی افضل چیز کا ذکر ہو ، لا محالہ وہ بھی افضل ہی ثابت ہوئی۔ پس اس قول صحابی سے بھی علم تعبیر کی افضلیت بخوبی ثابت ہو گئی۔ (۲) حضرت ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے (عروہ) نے فرمایا کہ قرآن مجید میں جو یہ مذکور ہے کہ لَهُمُ الْبُشْرَى فِي الْحَيَوة التنها یعنی ان نیک بندوں کے لئے اس دنیا کی زندگی میں بھی بشارت (خوشخبری) ہوتی رہتی ہے۔ اس آیت میں بشارت سے مراد نیک بندوں کا خواب ہی ہے۔ خواہ نیک بندہ خود کوئی نیک خواب دیکھے یا کوئی اور شخص اس کو خواب میں دیکھے۔ اس قول صحابی سے بھی یہ امر بخوبی ثابت ہو گیا کہ خواب ایک اعلیٰ و افضل