نواور (4) - General
Topic: نواور (4)
علم تعبیر کی فضیلت و تصدیق آیات قرآنی سے علم تعبیر ایک نہایت افضل علم ہے۔ اس کی فضیلت مفصلہ ذیل دلائل قرآنی سے ثابت ہے : ) جس چیز کو خدا تعالیٰ اپنے خاص انعامات میں شمار کرے اس کے افضل ہونے میں کوئی کلام نہیں۔ چنانچہ علم تعبیر کو خدا تعالے نے انعامات یوسفی میں شمار کیا ہے۔ ارشاد باری ہے : " وَكَذَلِكَ مَكَنَّا لِيُوسُفَ فِي الْأَرْضِ وَلِتُعَلِّمَهُ مِنْ تَاوِيلِ الأَحَادِيثِ " اسی طرح ہم نے یوسف کو اس ملک (مصر) میں سلطنت عطا فرمائی اور اس کو علم تعبیر خواب سکھایا۔ اگر یہ علم اچھا اور افضل نہ ہوتا تو حق تعالے اس کو اپنے انعامات میں کیوں ذکر کرتا۔ انعامات الہی میں اس کا مذکور ہونا اس بات کی روشن دلیل ہے کہ علم تعبیر خواب ایک نہایت افضل اور اعلی علم ہے۔ (۲) جناب سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج شریف کے بعد ایک خواب دیکھا جس کی خدا تعالیٰ خود تصدیق فرماتا ہے۔ چنانچہ ارشاد خداوندی ہے۔ لَقَدْ صَلَقَ اللهُ رَسُولَهُ الرُّونَا بِالْحَقِّ (ترجمہ) حق تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) کا خواب سچ کر دکھایا۔ جب خدا تعالیٰ نے سید الکونین خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خواب کی تصدیق فرمائی ہے تو ثابت ہوا کہ خواب ایک نہایت پر اسرار چیز ہے۔ جبھی تو سید الانبیاء (صلی اللہ علیہ وسلم) کو بھی خواب دکھایا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس خواب کی تصدیق فرمائی۔ یہ ظاہر بات ہے کہ جو چیز پیغمبروں کو بطور انعام نصیب ہو اور اس کو خدا تعالیٰ صحیح اور درست بھی فرما دے۔ اس کے افضل ہونے میں کس کو کلام ہو سکتا ہے؟ جب ثابت ہوا کہ خواب ایک پر اسرار نعمت ہے تو ساتھ ہی اس سے یہ بات بھی لازمی طور پر ثابت ہو گئی کہ خواب کی تعبیر کا علم بھی ایک نہایت اعلیٰ اور افضل چیز ہے۔ کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ علم کی شرافت اس کے موضوع کی شرافت سے ہوتی ہے۔ یعنی جس علم کا موضوع (جس کے حالات اس علم میں مذکور ہیں) اچھا ہو۔ وہ علم بھی اچھا ہوتا ہے اور جس علم کا موضوع خراب ہو وہ علم خراب ہی ہوتا ہے، جیسے علم سحر اور آیت مذکورہ بالا سے خواب کا افضل و اعلیٰ ہونا ثابت ہو چکا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جس علم میں خواب کے حالات مذکور ہیں وہ علم (علم تعبیر خواب) بھی افضل و اعلی ہوتا ہے۔