حکایت - حضرت ابن سیرین
Topic: حکایت
شاگردوں نے حضرت ابن سیرین رحمتہ اللہ علیہ سے دریافت کیا کہ دونوں کے خواب کی ایک ہی صورت ہے کہ دونوں شخص خواب میں اذان نماز دیتے ہیں۔ دونوں کی تعبیر میں اختلاف کیوں ہے؟ آپ نے جواب دیا کہ پہلے شخص کے چہرے سے نیک بختی کے نشان ظاہر ہوتے تھے۔ میں نے کہا کہ تم حج کرو گے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے : وانت کی الناس بالحج يا توك رجالا اور لوگوں میں حج کا اعلان کرو۔ تمہاری طرف دوڑتے ہوئے آئیں گے اور میں نے دوسرے شخص میں فساد اور مخالفت کے نشانات دیکھے تھے۔ میں نے تعبیر بیان کی کہ تم کو چوری میں پکڑیں گے تعالی کا ارشاد ہے : كَانَ ما فَاذَنَ مُؤذِّنُ ابْتَهَا الْعِيرُ أَنَّكُمْ لَسَارِقُونَ ( ترجمہ ) منادی - ) منادی نے پکارا قافلے والو ! تم ضرور چور ہو۔"